غزل

دہلا ہے سینہ دشت کا طوفان کے ڈر سے

کیا جانے کہ وہ اٹھنا پڑے اب کہ کدھر سے

اک بات تھی جو دل میں رہی لب پہ نہ آئ

راضی نہ تھے وہ سننے کو ‘ کہنے کو ہم ترسے

بنجر پڑی زمین کو قطروں کی آس تھی

دل کی یہ التجا تھی کہ دو بوند بھی برسے

کتنی مشقتیں ہیں تیری راہِ شوق میں

جو جاننا ہو پوچھ یہ خورشید و قمر سے

مومن ہے تو ہو خوفِ جہاں تجھ کو بھلا کیا

خوفِ خدا کو رکھ نہ ڈر فرعون و شِمر سے

یہ یاد رکھ کہ سجدہ گاہِ شوق ہے تیرا

ہر معجزہ پھر دیکھے گا مومن کی نظر سے

اللہ کی رضا ہو تیری عمر کا حصول

غافل نہ ہو ‘ قریب ہے تو اپنی قبر سے

صحراوُں کے ہر موج کی حد سے نکل شبلی

بے باک ہے تو پاک ہے ہر خوف و خطر سے
از : شبلی فردوسی